ابنا: انھوں نے کہا کہ گورنر فارم پر ہماری گاڑیوں کو روکا گیا اور گاڑیوں میں سوار مسافروں کو نکال کر ان کے شناختی کارڈ چیک کئے گئے اور ان مسافروں کو پتھر مارکر شهید کیا گیا ۔
ان خیالات کا اظہار سانحہ چلاس سے معجزانہ طور پر بچنے والے نوجوان شبیر کھوکری اور محمد امین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ کچھ مسافروں کو ہاتھ پاوں باندھ کر دریا میں پھینک دیا گی۔
انھوں نے کہا کہ موقع پر جدیدترین ہتھیاروں سے لیس سینکڑوں دہشت گرد موجود تھے۔ ہم تین سے چار گھنٹے تک جائے واردات پر پڑے رہے بعد از آن کچھ مقامی لوگوں نے ہمیں گھروں میں پناہ دی ۔ انھوں نے مزید بتایا کہ مسافر بس کو جلانے سے پہلے دہشت گردوں نے ہمارا سامان اتارا اور مسافروں کا پورا سامان چوری کرکے بسوں کو آگ لگا دی. ........
/169